SON DAKİKA

Naya Pakistan Global

جوہری معاہدے کے حوالے سے جوبائیڈن انتظامیہ اور ایران کے درمیان خفیہ بات چیت

جوہری معاہدے کے حوالے سے جوبائیڈن انتظامیہ اور ایران کے درمیان خفیہ بات چیت
20 January 2021 - 12:13

تہران: منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ذمے داران نے جوہری معاہدے میں واپسی کے حوالے سے ایران کے ساتھ خاموشی سے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔
تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان یہ سمجھوتا جولائی 2015ء میں طے پایا تھا۔ اسرائیلی نیوز نیٹ ورک نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ اسرائیلی حکومت اس بات چیت سے آگاہ ہے۔
منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے جوہری معاہدے میں واپسی کے حوالے سے خواہش کا اظہار کیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیل ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام پر نئی پابندیاں عائد کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس کا مقصد تہران کو دہشت گردی کی سرپرستی اور دنیا بھر میں عدم استحکام کو پھیلانے سے روکنا ہے۔
توقع ہے کہ نئے صدر بائیڈن ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے مقابلے میں زیادہ مصالحتی روش اپنائیں گے۔
بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری معاہدے کی پاسداری کی طرف واپس آتا ہے تو واشنگٹن ایک بار پھر سے معاہدے میں شامل ہو جائے گا اور تہران پر سے اقتصادی پابندیوں کو ختم کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں 2015ء میں امریکا اور دیگر عالمی قوتوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ 2018ء میں اس معاہدے سے علاحدہ ہو گئی تھی۔ اس کے بعد واشنگٹن نے اقتصادی باپندیاں عائد کرنے اور دیگر اقدامات کے ذریعے تہران پر دباؤ ڈالا۔